بنڈل اور بڈو آئی لینڈ پر وفاق کی عملداری کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں گزشتہ روز پٹیشن دائر کی گئی، جس میں مینگروو (تیمر) کے جنگلات کو خطرات اور انڈس ڈیلٹا میں ماحولیات پر اثرات کی جانب توجہ دلائی گئی تھی۔

ماحولیاتی ماہر اور کارکن سید یاسر حسین، احمد شبر اور سید جمیل حسن کاظمی کی جانب سے وکیل جبران ناصر نے پٹیشن دائر کی تھی۔ جس کی سماعت آج سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس محمد علی مظہر اور ارشد حسین خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

سندھ ہائی کورٹ میں درج ماحولیاتی کارکنان اور ایڈوکیٹ جبران ناصر کی پٹیشن۔

ایڈوکیٹ شہاب استو نے جزیرے کے قانونی دائرہ اختیار پر دلیل پیش کی کے کیسے وفاق ان جزیروں پر آبادکاری کرسکتا ہے آئینی طور پر نہ یہ جزائر وفاق کے زیر انتظام ہے اور نہ ہی اس پر وفاق کیسی قسم کا کوئی کام کرسکتا ہے اس پر صوبے کا حق ہے
ایڈوکیٹ باسل نے مچھیروں اور ساحل پر موجود ابادی کے حوالے سے عدالت کو بتایا کے جب یہ آبادیاں قائم کی جائیں گی تو اس سے ساحل پر موجود مچھروں کے روزگار کو خطرات ہوسکتے ہیں اسی سمندر سے ان کی زندگی کا گزر بسر جھوڑا ہے ۔

سندھ ہائی کورٹ میں آج ہونے والی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل سندھ بھی موجود تھے ۔

جسٹس محمد علی مظہر نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کیا مرکز نے صوبے سے اس معاملے پر رابطہ کیا اٹارنی جنرل نے جواب دیتے ہوئے بتایا ہم سندھ حکومت سے رابطے میں ہیں ۔

جسٹس راشد حسین خان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا آپ سے مرکز نے اس معاملے پر کوئی بات کی ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیتے ہوئے عدالت کو بتایا مرکز نے ابھی تک جزائر کے متعلق صوبے سے کوئی رابطہ نہیں کیا ۔

جسٹس محمد علی مظہر نے حکم دیتے ہوئے کہا کے وفاقی اور صوبے کے درمیان معاہدے کے بغیر کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا جائے گا مزید ریمارکس دیتے ہوئے مینگروز سمیت ماحولیاتی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مینگروز سمیت ماحول کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جزائر سندھ کے لوگوں کے ہیں۔ آرڈیننس کوئی حتمی فیصلہ نہیں، اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے، “اٹارنی جنرل نے کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کو بتایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت سندھ کے مشورے پر ترقیاتی کام شروع کرے گی۔

گزشتہ ہفتہ بھنڈار جزیرے کی طرف رواں ماہیگیر اور ماحولیاتی کارکنان کی احتجاجی ریلی

 

اس دوران سرگرم وکیل جبران ناصر نے ماحولیاتی کارکنان اور ایکسپرٹز کی پٹیشن کے حوالے سے عدالت کو بتایا کہ جزیروں پر جو ترقیاتی کام کیا جائے گا وہ مینگروز کو نقصان پہنچائے گا اور یہ “غیر قانونی” ہے۔
ناصر نے بنچ کو بتاتے ہوئے کہا کہ جزیروں پر کام شروع ہونے کی صورت میں مینگروز ختم ہوجائیں تو سونامی کا خطرہ ہے۔

عدالتی سماعت کے اختتام پر عدالت نے تمام فریقین کو تیرہ (13) نومبر کی تاریخ دی

امید ظاہر کی جارہی ہے کے عدالت سندھ کے جزائر پر قبضے کی کوشش کو ناکام بنائے اس حوالے سے گزشتہ ہفتہ مچھروں نے جزائر پر جاکر اپنا احتیاج بھی ریکارڈ کیا تھا تاہم عدالت سے امید ہے کے وہ سندھ کے جزائر اور سمندری حیات ساحل پر موجود مچھروں کے مستقبل کو محفوظ بنائی گی

1 reply

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *