صنعتی شعبہ کسی بھی ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ تاہم چند ممالک میں جن میں پاکستان بھی شمار ہوتا ہے صنعتی فضلے کو بغیر کسی ٹریٹمنٹ پلانٹ کے سمندر برد کیا جارہا ہے۔

اس سے پاکستان خود صنعتی آلودگی کا شکار ہے اور مختلف ماحولیاتی مظاہر کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ہر دن بڑی تعداد میں بلدیاتی،صنعتی اور زرعی فضلہ آبی ذخائر میں جاری کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے مزید ماحولیاتی خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔

                                                     کورنگی انڈسٹریل ایریا ، فیصل رحمان ، The Environmental

پاکستان اس وقت بڑھتی ابادی،معاشی تبدیلی،اور توانائی کے بحران کا سامنا بھی کر رہا ہے ۔

صنعتی پانی کو صاف کرنے کے لیے پلانٹس پر نہ صنعتوں کی طرف سے اور نہ ہی حکومت کی طرف سے سرمایہ خرچ کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے تاہم پاکستان میں کسی بھی ماحولیاتی ایجنسی یا اداروں کی جانب سے مختلف صنعتوں سے پیدا ہونے والے گندے پانی میں پائے جانے والے کیمیکلز اور آلودگی کی صحیح نوعیت کی کوئی تحقیق یا سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ہے ۔

زرعی شعبے پانی کے بغیر کام نہیں کر سکتے اور صنعتیں مینوفیکچرنگ کے مختلف شعبوں میں پانی استعمال کرتیں ہیں۔ہمارے جانداروں کو پانی کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ہمارے جسم کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ بناتا ہے۔ مختصراً زندگی پانی کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔ افسوس کی بات ہے تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت کاری جیسے مختلف شعبوں کی وجہ سے پانی خطرناک شرح پر آلودہ ہورہا ہے۔ اس وقت پاکستان میں پینے کے صاف پانی کی شرح صرف 12٪ فیصد ہے ۔ پاکستان میں مختلف شعبوں سے نکلنے والا گندہ پانی عام طور پر آس پاس کے ندی نالوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے جس سے انسانوں اور جانوروں،سمندری حیات کی زندگیوں کو شدید خطرات ہیں ۔

ہے اس میں لگ بھگ 117 آپریشنل یونٹس شامل ہیں۔ جو بنیادی طور پر کھانے پینے (HIE)  اس ہی طرح ایک صنعتی اسٹیٹ حطار انڈسٹریل اسٹیٹ

 اور مشروبات، ٹیکسٹائل،کراکری،کاغذ،پرنٹنگ ،سیمنٹ،اشاعت، کیمیکلز،ربڑ،چمڑے کی مصنوعات پر مشتمل ہیں۔یہ صنعتی اسٹیٹ مختلف قسم کا فضلہ اپنے قریب کی قدرتی نالوں میں چھوڑ رہا ہے اس صنعتی اسٹیٹ کے پاس ٹریٹمنٹ پلانٹ بنانے کی جگہ تک نہیں ہے ۔

صنعتی گندے پانی میں مختلف قسم کے مرکبات اور زہریلے کیمیکلز پائے جاتے ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں ۔ (پی.سی.بی) پولی کلورینیٹڈ کمپاؤنڈ (پی,اے,ایچ )پلمینری ارٹیریل ہائپرٹینشن (وی.او.سی)والوٹائیل اورگینک کمپاؤنڈ وغیرہ جیسے بہت سارے خطرناک مضر نامیاتی مرکبات یعنی کیمیکلز اور بھاری دھاتیں جیسے غیر نامیاتی مرکبات ہوتے ہیں جو نازک آبی ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ان میں سے کچھ دھاتیں کافی تعداد میں ممکنہ طور پر زہریلے یا کارسنجینک ہیں۔ اگر یہ فوڈ چین میں داخل ہوں تو انسانی صحت کے لیے شدید نقصان کا باعث بن سکتے ہیں ۔اسی طرح کان کنی اور خاص طور پر تھرمل پاور پلانٹس اور اوپن کاسٹ کوئلے کی کانوں میں استعمال ہونے والا پانی بھی آس پاس کے نالیوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے ۔

نے یورپی یونین کی مالی تعاون سے چھ سالہ منصوبے پر (WWF) ستمبر21 , 2017 کو ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والا ادارہ ورلڈ وائلڈلائف فنڈ

کے زیرِ انتظام کراچی،لاہور،سیالکوٹ،اور فیصل آباد میں ٹریٹمنٹ پلانٹس پر کام شروع کیا جو کے (I.L.O) بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن

  ستمبر21, 2023 کو مکمل ہوگا ۔اس منصوبہ کی بنیادی توجہ صنعتی فضلہ میں مضر صحت کیمیکلز کے استعمال کو 15 سے 20 فیصد تک کم کرنے پر ہوگی ۔

                                                      کراچی انڈسٹریل ایریا ، فیصل رحمان ، The Environmental

اس کے بعد 25 اکتوبر 2017 کو وفاقی حکومت نے آخر کار 11.7 ارب روپے کراچی کے دو بڑے صنعتی علاقوں میں پانچ ٹریٹمنٹ پلانٹس کی منظوری دی تاہم ابھی تک اس کے کوئی خاص نتائج نہ مل سکے ۔

صنعتی آلودگی کو روکنے کے لیے مختلف ادوار  حکومتوں نے قانون سازی کی مگر ابھی تک ان قوانین پر عملدرآمد نہ ہوسکا ۔

  سندھ ہائی کورٹ نے2017میں ایک ازخود نوٹس لیا جس میں 70 فیکٹری مالکان کو جرمانے کئے گئے 70 فیکٹریاں صنعتی فضلہ بغیر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے نالوں میں چھوڑ رہے تھے ایسے بہت سارے واقعات ہیں جن پر جرمانے اور سزائیں ہونے کے باوجود اب بھی صنعتی فضلہ صاف کئے بغیر نالوں میں چھوڑا جا رہا ہے ۔

حکومتی تخمینہ کے مطابق کراچی تقریباً پانچ سو ملین گیلن روزانہ کے حساب سے گندہ پانی پیدا کرتا ہے ۔ تقریباً پانچواں حصہ صنعتوں سے جب کہ باقی گھریلو یا بلدیاتی نکاس سے ٫ تقریباً تمام تر گھریلو یا صنعتی گندا پانی سمندر کا حصہ بنے سے پہلے صاف نہیں ہوتا اور یہ آفت کا باعث ہے

 سےبات  The Environmental  فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کےماحولیاتی کمیٹی کے کنوینر نعیم قریشی نے (FPCCI)

  کرتے ہوئے بتایا کے اس وقت صنعتیں کوشش کررہی ہیں صنعتی فضلے سے نمٹنے کے لیے۔ نعیم قریشی نے مزید بتایا کے اگر صوبائی حکومتوں کے بنائے ہوئے ماحولیاتی ادارے اپنا کام صحیح انداز میں کریں تو کافی حد تک صنعتی آلودگی کو کم کیا جاسکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مزید انہوں نے بتایا مستقبل میں پرائیوٹ سیکٹر فیکٹریاں اور کمپنیاں اپنے طور پر اس کا کوئی حل نکالنے کی کوشش کریں گیں۔ موجودہ حلات میں بہت مشکلات کا سامنا ہے صنعتوں کو ۔اگر صوبائی حکومتیں صنعتی انڈسٹری کے ساتھ مل کر کام کریں تو کم سے کم وقت میں صنعتی آلودگی پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔

قانون کے مطابق صنعتی یونٹوں کے ملکان صنعتی فضلہ کے ٹریٹمنٹ کے زمہ دار ہیں اور ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر صنعتی فضلہ کے پانی کو مناسب طریقے سے نالوں میں چھوڑنے کے بھی زمہ دار ہیں ۔

کو The Environmental تاہم فیکٹری مالکان مختلف خیالات رکھتے ہیں ۔کورنگی صنعتی علاقے میں ایک چھوٹی فیکٹری کے مالک آمین شاہ نے

 بتایا کہ زیادہ تر صنعتوں کو پانچ یا چھ دہائیوں پہلے تعمیر کیا گیا تھا اور اب ان کے فیکٹریوں کے اندر ٹریٹمنٹ پلانٹ تعمیر کرنے کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کے حکومت صنعتی فضلہ کے پانی کا علاج کرنے کی منصوبہ بندی کرتی ہے لیکن ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کورنگی صنعتی علاقے میں ایک بہت بڑا ٹریٹمنٹ پلانٹ شروع ہوا تھا لیکن اب وہ بھی گزشتہ ڈھائی سال سے فعال نہیں ہے۔

                                                                                               اورینج سائڈ ایریا ، فیصل رحمان ، The Environmental

ماحولیات کی بہتری کے لیے کام کرنے والے ماحولیاتی کارکنان افسوس کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے سامنے ہم اپنے ماحول کی تباہی دیکھ رہے ہیں اور دن بہ دن ماحول تبدیل ہوتا جارہا ہے۔ بغیر صاف کئے صنعتی فضلہ کو ندیوں میں چھوڑا جارہا ہے ۔یہی صنعتیں فیکٹریوں سے کما تو رہی ہیں مگر ماحولیاتی تبدیلیوں کے تحفظ کی نہ حکومت کو کوئی فکر ہے اور نہ ہی صنعتی شعبوں کو ۔ ایک ماحولیاتی کارکن احمد شبر کہتے ہیں کہ جب تک ہنگامی بنیادوں پر صنعتی فضلہ اور صنعتی آلودگی کے لیے فیصلے نہیں ہوتے وہ آواز اٹھاتے رہیں گے۔تاہم احمد شبر پر امید ہیں کہ جلد ہی صنعتی آلودگی کی روک تھام کے لیے حکومت اور صنعتی شعبہ کے مالکان ماحول کی بہتری کے لئے فیصلے کریں گے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *