جیسے کے آپ کے علم میں ہے ہم ماحولیات سے متعلق تحقیق پر مبنی آرٹیکلز کی سیریز کے آخری چند حصے مکمل کرنے والے ہیں آج ہم فضائی آلودگی پر کچھ تحقیقی زاویوں سے بات کریں گے اور پاکستان میں فضائی تبدیلی کے معیار کی بہتر نہ ہونے کی وجوہات کیا ہیں اس کو جانے کی کوشش کرتے ہیں

جب دنیا بھر میں صنعتی انقلاب آیا اس کے کچھ دہائیوں بعد دنیا بھر نے ایک طرف ترقی کی تو دوسری طرف ماحولیاتی مسائل میں اصافہ ہونےلگا۔ شروع کے کچھ عرصہ میں دنیا بھر میں اس پر اتنا سنجیدگی کا اظہار نہیں کیا گیا البتہ ماحولیاتی سائنسدان وقتاً فوقتاً آگاہ کرتے رہے۔ 70 ستر کی دہائی کے بعد سے ماحولیاتی تبدیلی کو دنیا بھر میں سنجیدگی سے سمجھنا شروع کیا گیا۔

صاف اور آلودہ ہوا کا فرق

ماحولیاتی تبدیلیوں میں سب سے اہم اور خطرناک تبدیلی ہوا کی یعنی فضائی تبدیلی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں جہاں پلانٹس لگ رہے ہیں کاروباری صنعتیں قائم ہورہی ہیں دوسری طرف فضائی تبدیلی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کئیے جا رہے ہیں جس سے فضائی آلودگی کو کم کیا جاسکے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے خطرناک فضائی آلودگی والے ممالک میں ہوتا ہے۔ گزشتہ سال دو ہزار انیس میں پاکستان کا ائیر کوالٹی انڈیکس کی لسٹ میں 158 نمبر تھا۔ رپورٹ کے مطابق ہر دس میں سے نو پاکستانیوں کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں جس کی وجہ فضائی آلودگی ہے ۔

سب سے پہلے ہم اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کے فضائی تبدیلی یا فضائی آلودگی کیا ہے ؟

ہوا کا معیار اس بات کا ایک پیمانہ ہے کہ ہوا کتنی صاف یا آلودہ ہے۔ ہوا کے معیار کی نگرانی ضروری ہے کیونکہ آلودہ ہوا ہماری صحت اور ماحول کی صحت کے لئے خراب ہوسکتی ہے۔

ایئر کوالٹی کی پیمائش ایئر کوالٹی انڈیکس، یا اے کیو آئی سے کی جاتی ہے۔ AQI تھرمامیٹر کی طرح کام کرتا ہے جو 0 سے 500 ڈگری تک چلتا ہے۔ تاہم اے کیو آئی درجہ حرارت میں تبدیلیاں ظاہر کرنے کے بجائے ہوا میں آلودگی کی مقدار میں تبدیلی ظاہر کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

ہمارے ماحول میں ہوا زیادہ تر دو گیسوں پر مشتمل ہے جو زمین پر زندگی کے لئے ضروری ہے: نائٹروجن اور آکسیجن. تاہم، ہوا میں بہت سی دیگر گیسیں اور ذرات کی بھی کم مقدار ہوتی ہے۔ AQI پانچ اہم فضائی آلودگی کو ٹریک کرتا ہے:

زمین کی سطح اوزونکاربن مونوایدیسلفور داوسیداناٹروگان داوگزیدییاربورنی ذرات یا ایروسول۔
زمینی سطح اوزون اور ہوا سے چلنے والے ذرات وہ دو فضائی آلودگی ہیں جو دنیا بھر میں انسانی صحت کے لئے سب سے بڑا خطرہ بنتے ہیں۔ وہ بھی اسموگ میں اہم اجزاء میں سے دو ہیں، ایک قسم کی فضائی آلودگی جو مرئیت کو کم کرتی ہے۔

لاہور رنگ روڈ تصویر سورس سماء ٹی وی

اوزون کیا ہیں جو خراب ہوا کی کیفیت کا سبب بنتی ہیں؟
اوزون ایک ایسی گیس ہے جس کے بارے میں آپ نے شاید زمین کی فضا میں اونچی پرت کے طور پر سنا ہے۔ یہ اوزون پرت ایک اچھی چیز ہے -یہ ہمیں سورج کی نقصان دہ تابکاری سے روکنے میں مدد کرتا ہے۔ تاہم زمینی سطح کا اوزون انسانی صحت کے لیے خراب ہے۔ یہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سورج کی روشنی کچھ کیمیائی اخراج کے ساتھ رد عمل ظاہر کرتی ہے (مثال کے طور پر نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ اور میتھین)۔ یہ کیمیکل صنعتی سہولتوں، کار ایکسہا سے آسکتے ہیں۔

حال ہی میں 16 اپریل 2020 کو آئی ایم میٹ نامی علمی تنظم نے (ڈبلیو ایچ او ) کے تعاون سے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کے پاکستان اس وقت فضائی آلودگی کی خطرناک سطح پر ہے جو کے غیر محفوظ تصور کیا جارہا ہے ۔

عالمی ادارہ صحت کی رہنما اصولوں کے مطابق پاکستان میں فضائی معیار کو غیر محفوظ تصور کیا جا رہا ہے۔حالیہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک کا سالانہ مطلب PM2.5 کا ارتکاز 58 µ G/M3 ہے، جو تجویز کردہ زیادہ سے زیادہ 10 µ G/M3 سے زیادہ ہے۔

پاکستان میں خراب ہوا کے معیار کے شراکت داروں میں گاڑیوں کا اخراج، ٹھوس فضلہ جلانے اور صنعتی اخراج شامل ہیں۔ آلودگی میں موسمی تغیرات موجود ہیں، جس میں موسم سرما (دسمبر تا مارچ) میں فضائی آلودگی کی بلند ترین سطح ہے۔ دستیاب اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پشاور، راولپنڈی، کراچی، اسلام آباد، اور لاہور میں فضائی آلودگی کی مسلسل بلند سطح ہے۔

تفصیل

بیرونی فضائی آلودگی کیمیائیوں، خاص معاملہ اور حیاتیاتی مواد کا ایک مرکب ہے جو چھوٹے خطرناک ذرات بنانے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ رد عمل کرتے ہیں. اس سے سانس لینے میں دشواری، دائمی بیماریوں، اسپتال میں داخل ہونے اور قبل از وقت اموات میں اضافہ ہوتا ہے۔

خاص مادے (پی ایم) کا ارتکاز فضائی معیار کے اہم اشارے ہے کیونکہ یہ سب سے عام فضائی آلودگی ہے جو قلیل مدتی اور طویل مدتی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ ذرات کے دو سائز کا معاملہ ہوا کے معیار کا تجزیہ کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ؛ 2.5 سے کم از کم µm یا PM2.5 کے قطر کے ساتھ ٹھیک ذرات اور 10 µm یا PM10 سے کم قطر کے ساتھ موٹے ذرات. PM2.5 ذرات زیادہ سے زیادہ ہیں کیونکہ ان کا چھوٹا سائز انہیں کارڈیوپلمونری نظام میں گہرا سفر کرنے کی اجازت دیتا ہے.

عالمی ادارہ صحت کی فضائی معیار کے رہنما اصول تجویز کرتے ہیں کہ PM2.5 کی سالانہ تعداد میں اضافے کی ضرورت نہیں ہے۔

اٹھائیس اگست دو ہزار اٹھارہ کو بی بی سی نے عالمی ادارہ برائے صحت کی ایک رپورٹ شائع کی جس میں بتایا گیا کے نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ طویل عرصے تک فضائی آلودگی سے متاثر ہونے کی صورت میں لوگوں کی ذہنی صلاحیتوں میں فرق پڑ سکتا ہے۔

محققین کے خیال میں منفی اثرات عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہیں اور اس سے سب سے زیادہ متاثر وہ افراد ہوتے ہیں جو کم تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔

امریکہ اور چین کی اس تحقیق میں چین میں چار سال سے زائد عرصے تک تقریباً 20 ہزار افراد کی زبانی اور ریاضی کی صلاحیتیوں کی نگرانی کی گئی۔

محققین کے خیال میں اس تحقیق کے نتائج کا دنیا بھر سے تعلق ہے، کیونکہ دنیا بھر کی شہری آبادی کا 80 فیصد حصہ غیرمحفوظ فضائی آلودگی میں سانس لے رہا ہے۔

کراچی شیر شاہ

یہ تحقیق ان علاقوں میں ہوئی جہاں تحقیق میں شامل افراد رہتے ہیں اس کے 10 مائیکرو میٹر کے اندر وہاں کی فضا میں موجود سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور ہوا میں پائے جانے والے چھوٹے مضر صحت مادوں کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

کاربن مونو آکسائیڈ، اوزون اور ہوا میں پائے جانے والے مضر صحت بڑے مادے اس تحقیق میں شامل نہیں ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق نہ دکھنے والے قاتل ذرات یعنی فضائی آلودگی کے باعث ایک اندازے کے مطابق سالانہ 70 لاکھ قبل از وقت اموات ہوتی ہیں۔

نیشنل اکیڈمی آف سائنس کی کارروائی کے دوران پیر کو شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ’ہم یہ شواہد فراہم کر رہے ہیں کہ فضائی آلودگی کے زبانی ٹیسٹ پر اثرات عمر کے ساتھ بڑھتے ہیں اور خاص طور پر مردوں اور کم تعلیم یافتہ افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔‘

تحقیق کے مطابق آلودگی سے الزائمر اور دوسری طرح کے ڈیمینیشیا جیسے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔تحقیق کے شریک مصنف شی چین نے گارڈیئن نامی اخبار کو بتایا: ’بڑے پیمانے پر آلودہ فضا کی وجہ سے تعلیمی سطح اوسطاً ایک سال تک کم ہو جاتی ہے، جو کہ بہت زیادہ ہے۔

دنیا بھر میں فضائی آلودگی کی اعداد و شمار فضائی آلودگی کے باعث ہر سال 70 لاکھ افراد کی موت ہو جاتی ہے

2016 میں دنیا بھر میں 42 لاکھ افراد کی موت فضائی آلودگی کے باعث ہوئی

دنیا کی 91 فیصد آبادی ایسے مقامات پر رہتی ہے جہاں کا فضائی معیار عالمی ادارہ صحت کے بتائے اصولوں سے بہت خراب ہےدنیا میں ہر 10 افراد میں سے نو آلودہ فضا میں سانس لیتے ہیں

دی انوئیرمینٹل نے ائیر کوالٹی پر ماہرانہ رائے جاننے کے لیے یاسر حسین سے ان کا ائیر کوالٹی پر موقف جاننے کی کوشش کی ۔ یاسر گزشتہ کئی برسوں سے ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں اور ائیر کوالٹی کے حوالے سے تجربہ بھی رکھتے ہیں ۔

یاسر نے دی انوائیرمنٹل کو بتایا اصل مسئلہ یہ نہیں کے ہوا خراب کیوں ہورہی ہے مسئلہ یہ ہے اس کے بارے میں ہماری انتظامیہ کو سمجھ نہیں آرہی کے بہتر ائیر کوالٹی انسانی جسم کے لیے کیوں ضروری ہے۔

انسان سال بھر میں 95 ٹن ہوا جس میں 740کلوگرام آکسیجن جو کہ کل ہوا کا 23 فیصد حصہ ہوتا ہے بغیر کسی ٹیکس یا قیمت کے قدرت سے لیتا ہے اسلئے اپنے ماحول کو ہرا بھرا رکھئے تاکہ مستقبل کے انسان بھی اس سے فائدہ اٹھا سکے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *