کراچی میں ماہی گیروں نے کھلے سمندر میں چیکنگ پر مامور اداروں کےخلاف احتجاج کرتے ہوئے کراچی پورٹ آنے والے بحری جہازوں کا چینل احتجاجاً بند کردیا تھا۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ روز رات گئے ماہی گیر کھلے سمندر میں مچھلی کے شکار کیلئے جانا چاہتے تھے لیکن انہیں روک دیا گیا جس پر احتجاج شروع ہوا۔ ماہی گیروں نے احتجاجاً کراچی پورٹ آنے والے جہازوں کا چینل بند کردیا اور چینل کے اردگرد درجنوں لانچیں لنگر انداز کرکے رکاوٹ کھڑی کردیں۔

چینل بند ہونے سے کراچی بندر گاہ میں بحری جہازوں کی آمد و رفت بند ہوگئی تھی۔

                                                                    ماہیگیروں کی ہڑتال۔ لانچوں سے کراچی پورٹ بلاک                                                       

رات گئے سے شروع ہونے والا احتجاج کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔

پورٹ کلئیرنس سرٹیفکیٹس کی عدم فراہمی کی وجہ سے بابا بھٹ جزیرے پر ماہی گیر کشتیوں کے ہمراہ احتجاج کررہے تھے۔

تفصیلات کے مطابق ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ پاک بحریہ اورپورٹ انتظامیہ کشتیوں کی نئی پی سی جاری نہیں کررہی ، ہماری کشتیوں کو پی سی جاری کیا جائے، سمندر میں شکار کےسیزن کا آغاز ہونے جارہا ہے، ہمیں پی سی جاری نہیں ہوگا تو ہم کیسے شکار کر پائیں گے؟

اس کے علاؤہ حالیہ برسوں میں ماہی گیروں کو بہت سے ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا اس میں سب سے اہم مشکلات ماہی گیروں کو سمندری فضلہ ہے جس کے سبب انواع و اقسام کی مچھلیاں اب کراچی اور سندھ کے سمندر میں موجود نہیں۔ جس کی وجہ سے عام طور پر ماہی گیروں کو مچھلیوں کی کمی کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ اگر ماہیگیورں کو شکار سے روکا جائے تو نہ صرف ان کو بلکہ پوری فشنگ انڈسٹری کو نقصان پہنچتا ہے۔

اسی حوالے سے دی انوائیرننٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ماہی گیر نسیم بلوچ نے بتایا کہ وہ لوگ بمشکل گزارا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ماضی میں جب ہم سمندر میں جاتے تو ہم میں سے ہر ایک 15 سے 20 ہزار روپے (93 سے 125 امریکی ڈالر) مچھلی کی فروخت سے حاصل کرتا تھا۔ آج یہ آمدنی کم ہوکر 5 سے 10 ہزار روپے (30 سے 62 امریکی ڈالر) رہ گئی ہے۔ کبھی کبھی یہ 4 ہزار روپے (25 امریکی ڈالر) تک گھٹ جاتی ہے۔ ہم بڑی مشکل سے گزارہ کررہے ہیں‘۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی محمود مولوی نے بابا بھٹ آئلینڈ کا ہنگامی دورہ کیا اور کہا کہ کراچی بندر گاہ کا چینل بند ہونے سے جہازوں کی آمدورفت بند ہے ، معاملات جلد حل ہو جائیں گے اور چینل کھل جائے گا ، معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے میں خود پورٹ آیا ہوں۔

مشیر میری ٹائم محمود مولوی نے ماہی گیروں سے مزاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی اور احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔

اس سے قبل ماہی گیر رہنما زاہد بھٹی کا کہنا تھا کہ کراچی کے ماہی گیروں نے کشتیاں کراچی چینل میں کھڑی کی تھیں۔ روزانہ کی بنیاد پر مچھلی کے شکار پر جانے والے ماہی گیروں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔

اسی حوالے سے دی انوائیرمنٹل سے سماجی کارکن محمد صالح نے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا اور بتایا کے سمندر جاتے اور آتے وقت جو سلوک برتا

سماجی کارکن محمد صالح نامہ نگار دی انوئیرمنٹل کو ماہی گیروں کے مسائل بتاتے ہوئے

جاتا ہے وہ قابلِ مذمت ہے!

بیرونِ ملک جانے کے لئے بھی ون ونڈو آپریشن ہوتا ہے لیکن ماہیگیروں کو اپنے ہی سمندر میں جانے کے لئے کئی اداروں سے دستاویزات کلیر کرنے کے بعد بھی پہلے کسٹم بھر کوسٹ گارڈ پھر میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کی چیک پوسٹوں پر گھنٹوں ذلیل اور خوار کیا جاتا ہے!جن سے شکار پر جانے کا وقت ضائع ہوتا ہے اور لانچوں کا سینکڑوں کی تعداد میں باندھنے سے آپس میں ٹکرانے سے الگ نقصان۔

صالح نے بتایا کے چیک پوسٹوں پر اکثر اور بیشتر سزا کے طور پر وہی اہلکار تعینات ہوتے ہیں جو یونٹس اور میس میں ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہیں جس کے سبب ان اہلکاروں کا ماہی گیروں سے برتنے والا رویہ ناقابل برداشت ہے۔

ماضی میں ماہی گیروں کی تربیت اور سمندری آبی حیات کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے حالیہ برسوں میں سمندری نظام میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ماہی گیری شدید متاثر ہوئے جب کے حکومت کی جانب سے بھی ماہی گیروں کو کوئی سہولت فراہم نہیں کی جاتی ۔

جب کے ماہی گیر برسوں پرانے طریقوں سے مچھلی کا شکار کرتے ہیں یہی وجہ ہے کے ماہی گیر جدید دور کے آلات اور تربیت نہ ہونے کے باعث متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومت نے بھی اگر کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے تو ماہی گیر زندگی کی بقاء کے خاطر ماہی گیری چھوڑنے پر اور نقل مکانی کرنے مجبور ہو جائیں گے۔

طویل احتجاج کے بعد ماہی گیروں کو مشیر میری ٹائم محمود مولوی نے یقین دلایا کے آپ کے مسائل کا ادراک ہے۔ جلد آپ کے مسائل اور تحفظات دور کر لیے جائیں گے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *