یہ آرٹیکل کچھ دن پہلے شائع کیا گیا تھا اور اس پر تنقید کی گئی کہ اس میں حقائق غلط اور بغیر دلیل کے بتائے گئیں ہیں۔ تو اس بار ہم نےحقائق ریفرنس کے  ساتھ پیش کئے ہیں۔

ہماری کوشش ہے کہ ہم ماحولیات کے حوالے سے ٹھیک بات لوگوں تک پہنچائیں۔اگر آپ کو کہیں غلتی نظر آئے تو ہم سے ضرور رجوع کریں۔ شکریہ۔

 

چند سال پہلے کی ہی تو بات ہے کے کوئی بھی پلاسٹک بیگ استعمال نہیں کرتا تھا بلکہ ہم سب لوگ کپڑے کے بیگ یا ٹوکری استعمال کیا کرتے تھے، لیکن رفتہ رفتہ وہ عادت ختم ہوتی گئی۔ اب ہمیں اور ہمارے بچوں کو کپڑے کے بیگ گھر سے مارکیٹ یا دکان لے جاتے ہوئے شرم آتی ہے اور یہ عادت تقریباً ہر فرد میں پائی جاتی ہے۔ اگر ہم اپنے آس پاس نظر دوڑائیں تو ضرور احساس ہو گا ہمیں پھر سے ان کپڑوں کے بیگز کی ضرورت ہے۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ہمارے ہاں شہر ہو یا گاؤں، محلہ ہو یا کوئی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹی ہر جگہ شاپنگ بیگ اڑتے، بکھرتے اور پانی میں تیرتے یا ڈھیر لگے نظر آتے ہیں۔کیا ہر طرف کچرے کے ڈھیر اور ان میں سے جھانکتی اور اڑتی پلاسٹک کی تھیلیاں ہمیں کچھ سوچنے پر مجبور نہیں کر رہیں؟

پاکستان میں کوئی مناسب ویسٹ منیجمنٹ سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے پلاسٹک کی اشیا خصوصا شاپنگ بیگ کا غیر ضروری استعمال ہماری زمین کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔

فیصل رحمان، دی انوائرنمنٹل: مائ کولاچی بائ پاس نالا

پلاسٹک کی تھیلیوں کی بھرمار جہاں ماحول کو آلودہ کرتی ہے وہیں ان سے پیدا شدہ فضلہ تعفن کا باعث بھی ہے۔

1965 میں سویڈن کی ایک کمپنی کی جانب سے متعارف کرائے گئے پولیتھین بیگز آج دنیا بھر میں عام ہو چکے ہیں. پاکستان میں پلاسٹک کے شاپر بیگز 80 کی دہائی میں شروع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان بھر میں استعمال ہونے لگے.

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے متنبہ کیا ہے کہ پلاسٹک کی تھیلیاں، ڈسپوزایبل کپ اور ربڑمیں ایک کیمیکل ہوتا ہے جس کے سبب لوگوں کو صحت پر اثر پڑ سکتا ہے اور بہت سی بیماریاں بھی ہوسکتی ہیں جن میں کینسر بھی شمار ہو سکتا ہے۔

 

اور بہت سے ذرائع کے متعبق گرمائش، خراش پڑنے، اور لیچ ہونے’breastcancer.org’ ، ‘phys.org’ ، Harvard Medical School

 جیسے دیگر کیمکل نکل سکتے ہیں جو زہریلے بتائے جاتے ہیں۔ ‘phthalates’ ، ‘BPA’ کی وجہ سے پلاسٹک میں سے

‘JAMA Network’نیو یارک ٹائمز نے بتایا کہ

کی رسرچ کے مطابق یہ کیمکل خواتین میں ایک خاص بیماری پیدا کرتا ہے جس سے ان کے ہاں قبل از وقت بچے پیدا ہونے لگتے ہیں اور قبل از وقت پیدائش بچوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے اس کے علاوہ ایسے بچے ذہنی و جسمانی معذوری کا بھی شکار ہوجاتے ہیں

پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق روزانہ 20 سے 25 کروڑ پلاسٹک بیگز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ حکومت کے 2002 آرڈنینس کے مطابق جوفیکٹری 15 مائیکرون سے کم موٹائی کے پولیتھین بیگز تیار کرے گی اس کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا.

:دس ستمبر 2019 کو شعیب منصور نے ڈان میں پلاسٹک بیگز کے حوالے سے موضوع شائع کیا

پلاسٹک کے تھیلے پر پابندی کی کامیابی مطابادل ذرائع پر مبنی’۔’

جس میں حکومت نے 15 مائیکرون سے بڑھا کر پولیتھین بیگز کی مائیکرون 30 مائیکرون کر دی جو بین الاقوامی معیار پر مکمل ہے ۔

اس وقت متعدد کیسز عدالتوں میں چل رہے ہیں اور قانون یہ ہے کہ کالے اور 30 سے 15مائیکرون سے کم موٹائی والے شاپنگ بیگز کی تیاری ،فروخت ،استعمال اور درآمد ممنوع اور قانونا جرم ہے ،اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 50 ہزار روپے جرمانہ اور 3 ماہ قید یا دونوں سزائیں اکٹھی ہو سکتی ہیں۔

شاپر بیگ یا ناقص پلاسٹک کی اشیاء جلانے سے جو دھواں پیدا ہوتا ہے وہ ہماری آنکھوں، جلد اور نظام تنفس پر بری طرح سے اثر انداز ہوتا ہے اور یہی دھواں سردرد ،آنکھوں کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تو پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال پر پابندی لگائی جاچکی ہے اور کئی ممالک پابندی لگانے پر غور کرر ہے ہیں۔پلاسٹک کے تھیلے یا پولیتھین بیگ کو عالمی سطح پر ناقابل استعمال قرار دیا جا چکا ہے۔

پلاسٹک کے کچرے نے پاکستان کا گلا گھونٹ کر رکھ دیا ہے اور اسکی بڑی وجوہات میں آگاہی مہم کا نہ ہونا، حکومتی غفلت اور ویسٹ مینجمنٹ کا ناقص نظام ہونا شامل ہیں۔ پاکستان پلاسٹک مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستانی قوم ہر سال تقریباً 55 ارب پلاسٹک بیگز استعمال کرتی ہے۔

جب کراچی میں مونسون بارشوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے یا اس کے علاؤہ طوفانی بارشیں ہو جاتیں ہیں تو مقامی سطح پر نکاسی آب کے چھوٹے ندیوں میں لاکھوں ٹن پلاسٹک بیگز پانی کے راستہ کو روکنے کا سبب بنتا ہے جس سے سارا پانی آبادیوں اور سڑکوں پر اجاتا ہے ۔

پاکستان میں شاپنگ بیگز بنانے کے رجسٹرڈ کارخانے آٹھ ہزار ہیں- سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان میں روزانہ پچپن بلین شاپنگ بیگ استعمال کیے جاتے ہیں اور ہر سال ان کے استعمال میں پندرہ فیصد اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

احمد شبر، دی انوئرنمنٹل: شیرشاہ

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے پلاسٹک بیگ یعنی (پولیتھین بیگز) کے روک تھام کے حوالے سے پہل کی سندھ حکومت نے پلاسٹک کی تھیلیوں پر پابندی عائد کی یہ پابندی 8 اگست 2019 کو سندھ حکومت کی جانب سے لگائی گئی مگر تاحال سندھ حکومت پابندی کا نفاذ کرنے میں ناکام نظر آتی ہے ۔

پنجاب حکومت نے بھی پلاسٹک بیگز کی روک تھام کے لیے عوامی سطح پر کپڑے کی تھیلیاں متعارف کرائیں تھیں یہ اقدامات پنجاب حکومت نے 15 مئی 2019 کو لیا تھا مگر پنجاب حکومت بھی اس میں اب تک ناکام ہے ۔

اگست 2019 میں وزیر مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل نے دعوا کیا تھا کے ایک ماہ میں اسلام آباد پلاسٹک سے بلکل آزاد ہوجائے گا
مگر ابھی تک اس میں بھی کسی قسم کی کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے ۔

26 مئی 2019 کو صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی پلاسٹک بیگز کیخلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا کاروائی سے قبل صوبہ میں تمام تر دوکانداروں کو سات دن کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی مگر وہاں باقی صوبوں کی طرح صوبائی حکومت کچھ خاص اقدامات نہیں کرسکی ۔

دینا بھر کی طرح پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی ماحولیاتی تبدیلیوں سے آگاہی کے لیے ماحولیاتی مارچ منعقد کئے گئے تھے ۔

پاکستان میں بھی اسی حوالے سے ریلیاں منعقد کی گئیں تھیں کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، ملتان، کوٹلی، مردان، گلگت، تربت، گوادر غرض چھوٹے بڑے کئی شہروں میں ماحولیاتی ایمرجنسی کیلئے آواز اٹھائی گئی تھی اور حکومت سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف فوری ایکشن پلان بنانے کے مطالبات پیش کئے گئے تھے۔

ماحولیاتی تحفظ کی سرگرم نوجوان سماجی کارکن گریٹا تھنبرگ نے اگست 2018 میں ماحولیاتی تحفظ پر عالمی رہنماؤں کی بے حسی کے خلاف 20 ستمبر کو گلوبل کلائمٹ اسٹرائیک کی کال دی تھی۔

جب گریٹا تھنبرگ نے عالمی سطح پر کلائمٹ اسٹرائیک کی کال دی تو اس کے اثرات پوری دنیا میں دیکھنے کو ملے وہی کراچی میں گاربیج کین کے بانی اور پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے سرگرم سماجی کارکن احمد شبر نے بھی کراچی میں کلائنٹ مارچ منعقد کیا جس میں تقریبا پانچ ہزار افراد نے شرکت انھوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے عوامی آگاہی مہم کے آغاز کا اعلان کیا اور حکومت سے ماحولیاتی تبدیلیوں پر جلد فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

-ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی بات سب کرتے ہیں لیکن عالمی سطح پر جو انقلابی اقدامات درکار ہیں، وہ ابھی نظر نہیں آرہے

References:

  1. https://www.nytimes.com/2020/04/09/well/family/pregnancy-plastic-chemicals-preterm-premature-births-phthalates.html
  2. https://www.breastcancer.org/risk/factors/plastic
  3. https://www.env-health.org/new-study-on-widely-used-plastic-products-confirms-toxicity-of-chemical-content-health-groups-call-on-new-european-commission-to-make-addressing-chemical-pollution-a-priority/
  4. https://www.npr.org/templates/story/story.php?storyId=102556613
  5. https://www.dw.com/en/alarming-level-of-plastic-in-childrens-bodies-german-study-shows/a-50432823
0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *