پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب کراچی ہے ۔

کراچی کی ابادی تقریباً پندرہ سے بیس کروڑ کے قریب ہے اور گزشتہ کئی سالوں سے کراچی کی آبادی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔

کراچی کے 6 ڈسٹرکس ہیں اور دو اہم بڑے صنعتیں ہیں

نمبر ایک
سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ ( S. I. T. E)
نمبر دو

کورنگی انڈسٹریل ائیریا  (K. I. A)

دو ہزار ایک میں سائیٹ ائیریا بلدیاتی حکومت کے ماتحت تھا۔ جب بلدیاتی حکومت کے ماتحت چل رہا تھا تب تک نکاسی آب اور ندی نالوں کی صفائی یومیہ بنیادوں پر باقائدگی سے کی جاتی تھی ۔

جس کی باقاعدہ ایک مخصوص رقم ان تمام کمپنیوں اور کارخانوں سے وصول کی جاتی تھی۔

دو ہزار ایک کے بعد صوبائی حکومت کے ماتحت کام کرنے لگی جس سے نکاسی آب کا جو طریقہ کار تھا وہ متاثر ہوتا گیا اور اب گزشتہ بارہ سال سے ان نالوں کی صفائی نہیں ہوئی جس کی وجہ سے اکثر نالوں کا پانی سائیٹ ائیریا کے سڑکوں پر اجاتا ہے جس سے مزید انسانی صحت کے لیے خطرات پیدا ہو جاتے ہیں ۔

کراچی کے ان دو بڑے اہم صنعتوں میں تقریباً 450 کمپنیاں موجود ہیں جس میں زیادہ تر کمپنیاں ادویات بناتیں ہیں ۔۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق کراچی کی ان صنعتی علاقوں میں 104 کے قریب چھوٹے بڑے ندی نالے موجود ہیں جس میں ان کے کارخانوں اور کمپنیوں کا پانی آتا ہے ۔

ان 104 ندی نالوں کا پانی گزرتا ہوا کراچی کے دو بڑے اور اہم ندیوں، لیاری ندی اور ملیر ندی، میں آتا ہے۔ان ندیوں میں روزانہ سات لاکھ گیلن پانی داخل ہوتا ہے۔

صنعتی علاقوں کے ندیوں سے آنے والا پانی انتہائی زہریلا ہوتا ہے۔ یہ پانی ملیر اور لیاری ندی کےذریعے بحیرہ عرب کے سمندر میں داخل ہوتا ہے اور پھر وہاں سے (Indian Ocean Garbage patch) یعنی بحیرہ ہند کے کچرے کے ڈھیر کے ساتھ مل کر سمندر کو مزید گندہ کر دیتا ہے۔

نے پاکستان کے معروف آرکیٹیکٹ عارف حسن کی ویب سائٹ سےThe Environmental

 معلوم کیا ہےکے دوہزار پانچ تک کراچی میں اکتالیس بڑے ندی نالوں کی نشان دہی ہوچکی تھی

مگر چونکہ کراچی میں ماحولیات پر بڑے اور وسیع پیمانے پر کام نہیں ہوا اس لیے کراچی کی ندی نالوں کے بارے میں مختلف تعداد بتائی جاتی ہے۔۔

دو ہزار گیارہ میں ایبٹ آباد یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی سائنس سے وابستہ کچھ طلبہ اور ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد کے طلبہ (1) نے مل کے اپنے جریدے(2) میں کہا کہ کراچی میں مجموعی طور پر ندی نالوں کی تعداد تقریباً 550 کے قریب ہے اور اسی طرح عالمی بینک نے بھی دوہزا سترا میں مجموعی

طور پر 550 کی تعداد بتائی تھی ۔۔

نقشہ جو کورنگی ندی اور لیاری ندی کے ذریے بحریہ عرب میں داخل ہوتے پلاسٹک کی تعداد بتا رہا ہے۔

 نامی ایک عالمی ویب سائٹ نے کراچی کے حوالے سے ایک نقشہ The Ocean Clean Up (3)

جاری کیا ہے جس میں واضح طور پر  دیکھایا گیا ہے کہ کراچی کے لیاری ندی
کے ذریعے21 لاکھ 82 ہزار کلو اور کورنگی ندی سے 2 لاکھ 22 ہزار کلو پلاسٹک کچرہ یومیا بحریہ عرب میں داخل ہوتا ہے۔

اسی طرح ان ندی نالوں میں صرف آلودہ پانی ہی نہیں جاتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کم سے کم دس ہزار ٹن کچرا یومیہ بنیاد پر ان صنعتی علاقوں سے ہوتا ہوا لیاری ندی اور ملیر ندی اور پھر بحیرہ عرب میں داخل ہوتا ہے ۔۔

سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے مطابق 70 ہزار ٹن کچرا اس وقت کراچی کی گنجان آباد علاقوں اور ندی نالوں میں موجود ہے ۔

جامعہ کراچی کے طلبہ(4) نے اپنے جریدے(5) میں اندازہ لگایا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے جنوبی شہر کراچی میں پانی کی فراہمی کا تقریباً 70 فیصد پانی یعنی جو پانی گھریلو استعمال کے لیے ہوتا ہے وہ لیاری اور ملیر ندیوں کے ذریعے بحیرہ عرب میں داخل ہوتا ہے ۔

جب یہ پانی ان دو ندیوں سے ملتا ہے تو پانی کے بہاؤ میں تیزی واقع ہوتی ہے جس سے ندیوں کی زمین پر موجود کچرا بھی بحیرہ عرب کے سمندر میں داخل ہو جاتا ہے۔

اس کے علاؤہ 11.7 کلو میٹر طویل ندی کے ابتدائی 1.1 کلومیٹر طویل حصہ کے درمیان پانچ ندی نالوں میں پانی داخل ہوتا ہے جن میں بھی کچرا بہت تعداد میں موجود ہے ۔

اسی طرح یہ آلودہ پانی اور اس میں موجود کیمیکلز اور کچرا کس طرح سے سمندری آبی حیات کے لیے خطرہ بنتا جارہا ہے یہ آپ کو اس آرٹیکل کے دوسرے حصے میں بتایا جائے گا

(جاری ہے)

(1) طلبہ: سید فائز انعم ، ہمائرہ قریشی ، سہیل اے قریشی

(2) جریدہ: ‘کراچی کے گنجان آباد شہری علاقوں میں بہتے ہوئے انتہائی آلودہ ندیوں سے بیکٹیریا کا نمونہ.’

https://theoceancleanup.com/sources/ (3)

(4) طلبہ: کوثر یاسمین ، ایم ورسیانی ، رفیع آرائن ، قمرالحق ، ناصرالدین خان ، ایس علی ، اے لنگھا
جرنل آف سائنسز اور ماحولیاتی انتظامیہ

(5)جریدہ: ‘صنعتی گندے پانی سے سیراب سبزیوں اور کھیت کی مٹی میں دھات کی سطح میں اضافہ.’

2 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *