شاہ فیصل کالونی میں رہائشی علاقے کا ایک منظر۔ تصویر نگار: احمد شبر، دی انوائرنمنٹل۔

کراچی: قدرتی امر ہے کہ موسم سرما کے دوران فضائی آلودگی میں اضافہ ہوجاتا ہے لیکن کراچی کی فضا کا معیار پورے سال ہی خراب رہا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس کی بہتری کے لیے فوری اقدامات نہیں کیے تو فضائی آلودگی کا معیار مزید بگڑ سکتا ہے۔

این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر کے تکنیکی مشیر کی حیثیت سے کام کرنے والے انجینئر دانش خان نے کہا کہ ‘اس وقت شہر میں فضا کا معیار چیک کرنے والا کوئی سرکاری میکانزم موجود نہیں ہے اور نجی طور پر حاصل کیا جانے والا ڈیٹا بڑی حد تک قابل بھروسہ ہے۔


ان کے مطابق شہر میں 3 مقامات پر فضا کا معیار جانچنے والے آلات کام کررہے ہیں ان میں ایک کراچی پریس کلب کے نزدیک، دوسرا امریکی قونصل خانے جبکہ تیسرا ملیر کنٹونمٹ کے علاقے میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کی ایک ٹیم ایک سال سے زائد عرصے سے کراچی کی فضائی آلودگی پر ایک تحقیق کی مد میں فضائی معیار کی نگرانی کررہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ‘رواں برس کووِڈ 19 کے باعث لگائے جانے والے لاک ڈاؤن کے عرصے کو نکال کر شہر کی فضا کا معیار زیادہ تر ‘غیر صحت بخش’ رہا۔

غیر صحت بخش سے مراد شہر کا عمومی ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 101 سے 150 ہے جس میں یہ زیادہ تر بلند اشاریوں کی طرف رہا اور پیک آورز کے دوران اس میں مزید اضافہ ہوا۔

عالمی سطح پر اے کیو آئی کو 0 سے 50 کے درمیان بہترین فضا مانا جاتا ہے، 51 سے 100 تک کا اے کیو آئی صحت کے حوالے سے حساس افراد کے لیے معمولی سے درمیانے صحت خدشات کا باعث بن سکتا ہے جبکہ 101 سے 150 تک کے اے کیو آئی کو حساس افراد کے لیے غیر صحت بخش سمجھا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ 151 سے 200 تک کے اے کیو آئی کو ہر ایک کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے جس میں حساس افراد کے مزید متاثر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے جبکہ 201 سے 300 تک کا اے کیو آئی صحت کے خطرے کی علامت بن جاتا ہے جبکہ 300 سے 500 اے کیو آئی خطرناک ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی صحت کے لیے سب سے بڑا ماحولیاتی خطرہ ہے جس سے دنیا بھر میں ہر سال 20 لاکھ افراد کی قبل از وقت موت ہوجاتی ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *