سندھ کے جڑواں جزائر بنڈل اور بدو پر سندھ ہائیکورٹ نے آخر کار سندھ حکومت سے جزائر اور مینگروز کے تحفظ پر واضح موقف نہ دینے پر برہمی کا اظہار کیا اور سخت حکم دیا۔

اس سماعت کے بعد سندھ سیکرٹری جنگلات نے 8 ستمبر کو تحریری جواب جمع کروایا کے بندل اور بدو 2010 کی نوٹیفیکیشن میں محفوظ نہیں کئے گئے۔ جبکہ پچھلے سال سے سندھ حکومت کا موقف تھا کے یہ جزائر اور انکے مینگروز 2010 کے نوٹیفیکشن میں شامل ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ میں جزائر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار احمد شبر ،یاسر حسین اور ڈاکٹر جمیل کازمی بمع وکیل جبران ناصر پیش ہوئے۔

ابتدا ہی میں چیف جسٹس سندھ نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ چیف سیکرٹری جنگلات کو کچھ دیر میں عدالت میں پیش ہونے کا کہیں۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ سیکرٹری جنگلات کی موجودگی کو یقینی بنائیں کہ وہ 11 بجے تک سندھ ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہوں تاکہ وہ بدو اور بنڈل جزیرے پر سندھ حکومت کی پوزیشن واضح کرسکیں۔ بے صورت دیگر سیکرٹری جنگلات کے غیر ضمانتی وارنٹ جاری کرلیے جائیں گے۔

سندھ حکومت کی تحریر جس میں واضح کیا گیا کے بدو اور بنڈل محفوظ نہیں۔

2010 سے سندھ حکومت کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی ہماری درخواست SHC کے سامنے زیر التوا ہے جس میں ہم نے سوال کیا ہے کہ حکومت بڈو اور بنڈل کے مینگرووز کو محفوظ قرار دینے میں ناکام کیوں ہوئی؟ وکیل جبران ناصر نے عدالت کے سامنے سوال رکھا ۔

ہم نے پچھلے سال درخواست دائر کی تھی جس ہم نے کہا تھا کہ میں وفاقی اور سندھ حکومتیں 2010 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے بدو اور بنڈل کو محفوظ قرار دینے میں ناکام رہی ہیں۔ جبکہ سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ اس نوٹیفیکیشن میں پورا انڈس ڈیلٹا محفوظ قرار دیا گیا تھا۔ وفاقی آرڈیننس PIDA تو ختم ہو گیا لہذا اب درخواست سندھ حکومت کی کارروائی پر مرکوز ہے درخواست گزار احمد شبر نے کہا تھا۔

پچھلے 8 مہینوں سے سندھ حکومت 2010 کے نوٹیفکیشن پر ہمارے اعتراض کا سادہ جواب جمع کرنے میں ناکام رہی ہے۔ لہٰذا سیکریٹری جنگلات کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا سخت حکم سامنے آیا تھا۔

درخواست گزار احمد نے بتایا سیکرٹری جنگلات بالآخر 11 بجے سندھ ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہوئے تھے ۔ انہوں نے ایک زبانی بیان دیا کہ بنڈل اور بڈو کے مینگرووز بھی سندھ حکومت کے 2010 کے نوٹیفکیشن کے تحت محفوظ ہیں۔ سندھ ہائیکورٹ نے سیکریٹری کو حکم دیا کہ وہ تحریری طور پر بتایئں کہ بنڈل اور بدو مینگروز محفوظ ہیں۔

درخواست گزار احمد نے بتایا کے یہ تحریری بیان 2010 کے نوٹیفکیشن کو تقویت بخش سکتا ہے اور اگر مینگرووز کی غیر قانونی کٹائی ہوتی ہے ، یا مینگرووز کی قیمت پر تعمیر کا راستہ بنانے کی کوئی بات ہوتی ہے تو ہم عدالتوں کو یہ خط بھی دکھا سکتے ہیں۔

آخر کار سندھ حکومت نے آٹھ ستمبر کو ہونے والے سماعت پر ہائیکورٹ کو تحریری طور پر جواب جمع کروایا۔ تحریر سیکرٹری جنگلات ڈاکٹر بدر جمال مندرو نے ہائیکورٹ کو پیش کی۔ اور اس تحریر میں انھوں نے اعتراف کیا کہ واقعی بدو اور بنڈل جزائر 2010 کی نوٹیفیکیشن میں شامل نہیں تھے۔

وکیل جبران ناصر نے کہا کے سندھ حکومت کی طرف سے یہ پہلا سرکاری داخلہ ہے کہ بدو اور بنڈل مینگرووز کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ اب ہم ماحولیاتی کارکنان کے ساتھ مل کر کوشش کریں گے کہ بالآخر انہیں محفوظ قرار دیا جائے۔ اس طرح امید ہے کہ آئی لینڈ کو کسی رئیل اسٹیٹ ٹائکون کے مستقبل کے کسی بھی منفی منصوبے سے محفوظ رکھا جائے گا۔

بدو اور بنڈل جزیروں کو گزشتہ ادوار میں ایک بار 1958 میں محفوظ قرار دیا گیا تھا لیکن گورنر جنرل کے 1973 کے آرڈر کے بعد اور خاص طور پر 18 ترمیم اتھارٹیز کے وجود میں آنے سے صوبوں کو یہ اختیارات ملے۔

لیکن صوبوں نے انہیں کبھی بھی محفوظ قرار نہیں دیا۔ بلکہ 2010 میں ایک نوٹیفکیشن جاری کر کے دیگر تمام جزیروں کو محفوظ قرار دیا گیا مگر بدو اور بنڈل کو اس نوٹیفیکشن میں شامل جغرافیائی رابطوں میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس طرح ایک ٹیکنکل پوائنٹ استعمال کرکے بنڈل اور بدو کو محفوظ نہیں کیا گیا۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *