خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کے تمام بڑے شہروں کراچی، لاہور، اسلام آباد، حیدر آباد، کوئٹہ اور ملتان میں عورت مارچ ریلیاں نکالی گئیں، جس میں خواتین اور مردوں کے علاوہ خواجہ سرا بھی شریک ہوئے۔

عورت مارچ ہر سال 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر منعقد کیا جاتا ہے۔ ریلیوں کے شرکاء نے مختلف شعبوں میں خواتین کو درپیش مشکلات پر روشنی ڈالی اور صحت، تعلیم، روزگار میں بہتر سہولیات کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی ساتھ ہراسانی کے واقعات پر بھی کڑی تنقید کی۔

کرونا وائرس وباء کو سامنے رکھتے ہوئے اس سال عورت مارچ کے شرکاء نے صحت سے متعلق بہتر سہولیات کا بھی مطالبہ کیا۔ عورت مارچ لاہور کے صحت سے متعلق حقوق نسواں کے منشور میں کہا گیا ہے کہ کوویڈ 19 کی وبائی بیماری نے ہمارے معاشرے میں عدم مساوات کو جنم دیا ہے۔

عورتوں کے عالمی دن 8 مارچ کو عورت مارچ۔

کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، حیدر آباد اور ملتان میں عورت مارچ کے شرکاء نے مختلف موضوعات پر پلے کارڈز اٹھارکھے تھے۔

لاہور میں عورت مارچ کا آغاز پریس کلب سے ہوا جوکہ فیلیٹی ہوٹل سے گزرتا ہوا پی آئی اے دفتر پر ختم ہوا، مارچ میں شریک خواتین نے اپنے اپنے انداز میں خواتین کو زندگی کے مختلف شعبوں میں درپیش مشکلات سے آگاہ کیا، اس موقع پر ٹیبلوز بھی پیش کئے جبکہ گانوں پر لوگوں نے رقص بھی کیا۔

کراچی میں مارچ کا آغاز سہ پہر 3 بجے فریئر ہال سے ہوا جو میٹروپول پر اختتام پذیر ہونا تھا تاہم مارچ کے شرکاء نے وہاں پہنچ کر دھرنا دیدیا اور حکمرانوں سے مطالبات پورے کرنے کیلئے زور دیا۔

 

اسلام آباد میں مارچ کیلئے شرکاء پریس کلب پر جمع ہوئے جبکہ ملتان میں نواں شہر چوک پر اجتماع ہوا، جہاں سے وہ واک کرتے ہوئے پریس کلب تک پہنچے۔

اس سال کراچی میں خواتین پر ماحولیاتی تبدیلیوں سے مرتب ہونے والے اثرات اور خواتین کی خفاظت کو لے کر گفتگو بھی ہوئی. تحریک نسواں کی سربراہ شیما کرمانی نے دی انوائیرمنٹل سے بات کرتے ہوئے بتایا کے ہم سمجھتے ہیں کے ماحولیاتی تبدیلیوں کے سب سے زیادہ اثرات خواتین پر ہوتیں ہیں جس کے لیے ہم کوشش کر رہے ہیں خواتین میں آگاہی کے لیے. ساتھ ہی بتایا ہے ہمارے مطالبات میں سے سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کے جو مزدور کش خواتین ہیں ان کے روزگار کو مستحکم بنایا جائے ۔

عورت مارچ 2021

ماحولیاتی تحفظ کے کارکن اور گاربیج کین اور دی انوائیرمنٹل کے بانی احمد شبر نے دی انوائیرمنٹل سے بات کرتے ہوئے بتایا کے جس طرح وقت گزر رہا ہے خواتین میں اپنے حقوق کو لے کر شعور بیدار ہورہا ہے انہوں نے خواتین کے عالمی دن پر اپنی والدہ اور تمام خواتین کا شکریہ ادا اور ان کو مبارک باد بھی دی ۔

انھوں نے کہا کہ انھیں خوشی ہے کے اس سال مارچ میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی بات ہوئ اور یہ خوش آئند بات ہے کے عورت مارچ کے منتظمین ماحولیاتی تبدیلی جیسے اہم موضوع کو اپنے ساتھ جوڑتے ہیں۔ کیوں کہ کسی بھی معاشرے میں شعور اور آگاہی کے لئے خواتین کی بیداری ضروری ہے۔

احمد شبر نے مزید بتایا کے ہم نے کراچی عورت مارچ کے صاف صفائی کا سارا زمہ خود ہی اٹھا لیا ہے اور یہ کام میں رزاکارانہ طور پر کررہا ہوں

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر معروف پاکستانی شخصیات، سیاستدانوں، سرکاری افسران اور دیگر عہدیداروں نے اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ وہ ایسے مستقبل کی امید کرتے ہیں جہاں خواتین کو ان کے بنیادی حقوق سے انکار نہیں کیا جاتا ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *