دنیا بھر میں ہر ملک کی کوشش ہوتی ہے کے سیوریج کے پانی کو بہتر طریقے کے ساتھ ضائع کیا جائے اور اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے حکومتیں بہتر سے بہتر اقدامات کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ دنیا بھر میں اب سیوریج ٹرٹیمنٹ پلانٹ بھی ضروری سمجھے جاتے ہیں۔

کراچی نالے پر قبضہ

کراچی جو کے گزشتہ دو دہائیوں سے سوریج کے بدترین نظام سے دوچار ہے تو وہی دوسری جانب نالوں کے اطراف میں کچھ مقامی افراد نالوں میں ملبہ گرا کر نالے پر قبضہ کرنے میں مصروف ہیں۔

کراچی کے علاقے ہجرت کالونی کے سامنے مائی کولاچی نالے پر قبضہ کرنے کی کامیاب کوشش جاری ہے۔

دی انوائیرمنٹل کے صحافی : ذرائع کے مطابق اس وقت کراچی کے مختلف علاقوں سے ملبہ لا کر نالے کو بھرا جارہا ہے۔

ہجرت کالونی کے اطراف میں پھیلا ہوا یہ طویل نالا ہے جو کے گجر نالے کے بعد دوسرا بڑا برساتی نالا ہے ۔

ہجرت کالونی برساتی نالے میں ملبہ ڈال کر قبضہ جاری ۔ تصویر: احمد شبر – دی انوئرنمنٹل۔

ہجرت کالونی برساتی نالے میں ملبہ ڈال کر قبضہ جاری ۔ تصویر: احمد شبر – دی انوئرنمنٹل۔

ہجرت کالونی برساتی نالے میں ملبہ ڈال کر قبضہ جاری ۔ تصویر: احمد شبر – دی انوئرنمنٹل۔

تحقیقات کے دوران

ہمارے نامہ نگار فیصل رحمن نے جب مقامی افراد سے جاننے کی کوشش کی تو اس پر مقامی افراد نے موقف اختیار کرتے ہوئے بتایا کے قبضے میں ملوث افراد مقامی ہیں مگر دوسری جانب اس نالے اور زمین کے ذمیدار (کراچی پورٹ ٹرسٹ) کے پی ٹی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کے پی ٹی کے افسران کو اس قبزے کا علم ہے اور کیا اس پر کوئی ٹھوس کاروائی کی جائے گی؟

ایک طرف سندھ حکومت گجر نالے کے اطراف میں موجود آبادیوں کو نالا کھولنے کے نام پر گھر مسمار کر رہی ہے تو دوسری جانب ہجرت کالونی مائی کولاچی پر برساتی پانی کے مرکزی راستے کو بند کیا جارہا ہے۔ ایک طرف یہ کہا جا رہا کے لوگوں نے نالوں کے اطراف قبضہ کیا جس کی وجہ سے برساتوں میں کراچی ڈوب جاتا ہے لیکن دوسری طرف ہجرت کالونی کے برساتی آؤٹفال کے بیسن پر تازا قبضے پر کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ نالے پر کئ دہائ پہلے لیز گھر بھی غلط بنے مگر دوسری طرف ہجرت کالونی کے بیسن پر قبزے کا نوٹس نہ لے کر وہی بات پھر دہرائی جا رہی ہے جس کے بعد نالے کی زمین مخصوص لوگوں کے استعمال میں آجائے گی۔

سیٹیلائٹ سے لی گئی تصویروں کے ٹائم لائن کے مطابق 2004 سے 2021 تک ہجرت کالونی برساتی نالے میں بدلاؤ واضح طور پے نظر آرہا ہے۔پچھلے تین سالوں میں تیزی سے ملبہ ڈالا گیا۔تصویر گوگل ارتھ سے لی گئ۔

اس کے علاوہ ہجرت کالونی کے بیسن میں سب سے اہم چیز (چمرنگ) یعنی مینگروز کے جنگلات ہیں جو کے ہجرت کالونی کے نالے سے شروع ہوتے ہوئے مائی کولاچی نالے کے آخری حصے پر ختم ہوتے ہیں۔ ایک طرف وفاقی اور صوبائی حکومتیں مینگرووز کی ماحولیاتی اہمیت کا درس دیتے ہیں اور دوسری طرف کراچی میں واقعہ اس جنگل کو کاٹا جا رہا ہے اور اس زمین پر ملبہ گرا کے قبضہ کیا جا رہا ہے۔

ہر طرح سے حکومتی اداروں کے قول و فعل میں فرق نظر آرہا ہے۔

تصویر میں نظر آنے والے ٹیلے (جو پارکنگ کے لئے استعمال ہوتا ہے) کا کرایا پانچ لاکھ روپے تک بتایا جا رہا ہے۔ ذرائع۔ تصویر گوگل ارتھ سے لی گئی ہے۔

معاملے میں اور کون شامل ہیں

ملبے کو رات کے اندھیرے میں نالے میں گرایا جاتا ہے تاکہ کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

گزشتہ روز ہمارے نامہ نگار پر تحقیقات کے دوران ان ملبہ گرانے والوں کو شک ہوا کے کوئی ان کے بارے میں معلومات حاصل کررہا ہے جس پر انہوں نے اب ملبہ اور بھی احتیاط سے گرانا شروع کیا ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *